ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایک اور نئے ڈھونگی بابا کی ہوس کاری کا انکشاف؛ دہلی کے ایک آ شرم پر پولس کا چھاپہ 

ایک اور نئے ڈھونگی بابا کی ہوس کاری کا انکشاف؛ دہلی کے ایک آ شرم پر پولس کا چھاپہ 

Fri, 22 Dec 2017 22:46:19    S.O. News Service

دہلی،21؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بھارت یوں تو دیوتاؤں کا ملک ہے ؛ لیکن یہ بھی اس ملک کی بدترین تاریخ ہے کہ یہاں اس کے نام پر عوام کو بیوقوف بھی بنایا جاتا ہے، ہوس پرستی کو انجام دیا جاتا ہے اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے مذہب کو آڑ بنایا جاتا ہے ۔ گرومیت رام رحیم کی ہوس کاری ابھی لوگوں کو یاد ہی ہے کہ ناگاہ دہلی میں پھر ایک بار ایک نئے بابا کی ہوس کاری کا انکشاف ہوا ہے ۔ شمالی دہلی کے روہنی کے وجے وہار میں قائم مذہبی تربیت گاہ کے نام پر آشرم میں خواتین کے استحصال کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کے پس منظر میں درجن بھر لڑکیوں کی شکایت پر ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد جب پولیس اور خواتین کمیشن کی مشترکہ ٹیم نے چھاپہ مارا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ کس طرح آشرم میں خواتین کو قید کرکے رکھا جاتا تھا۔ آشرم میں سات لوہے کا دروازہ نصب کیا گیا تھا اور 18 تالوں کے ذریعہ اس کو مقفل کیا جاتا تھا۔ اس مذہبی آشرم میں دو سو خواتین اور نابالغ لڑکیاں ملی ہیں ۔ 41 نابالغ لڑکیوں کو آشرم سے نریلا میں واقع ایک سماجی ادارہ کے شیلٹر ہوم میں بھیجا گیا ہے ۔ آشرم میں موجود کئی قسم کی ادویات موجود تھیں جس سے خواتین اور نابالغ لڑکیا ں بیہوشی کے عالم میں رہا کرتی تھیں ۔ فی الحال آشرم میں ابھی بھی سو سے زائد خواتین اور لڑکیاں موجود ہیں ۔ ہائی کورٹ کے ایس آئی ٹی کا کہنا ہے کہ جو خواتین ابھی بھی آشرم میں مقیم ہیں ان کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے یہ اسی وقت ممکن ہے جب انہیں آشرم سے ہٹا یا جائے اور دور کسی طبی مرکز میں داخل کیا جائے ۔ آشرم کے اندر سات دروازے اور درجنوں تالے ملے ہیں جن سے خواتین کو اندر سے مققل کر کے رکھا جاتا تھا ۔آشرم کی یہ حالت تھی کہ کوئی بھی شخص وہاں تک پہنچ پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا تھا ۔ حتی کہ ان کی ہوشیاری یہ دیکھیں کہ باہر کا کوئی بھی شخص آشرم کے اندر داخل نہ ہو اس شبہ سے بچنے کے لیے اس کے قریب ہی ایک نئی عمارت بنا کر اس میں مرد درزی،  بجلی میکینک وغیرہ کو رکھا جاتا تھا۔ مذہبی تربیت گاہ کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آشرم کے پاس بلیک منی پہنچتی تھی ۔ تاہم یہ خیال رہے کہ آشرم میں گجرات ، مہاراشٹر وغیرہ ریاست کے نمبر پلیٹ کی گاڑیاں آتی تھیں ۔ واضح ہو کہ اس آشرم کے سربراہ کے طور پر ویریندر دیو دکشت نامی شخص کی شناخت ہوئی ہے ۔ جس کی عمر سترسال ہے ۔ کئی سالوں تک برہما کماری آشرم سے منسلک رہنے کے بعد اس نے خود اپنا ایک آشرم شروع کیا ۔

واضح ہو کہ   فرخ آباد ، باندہ ، احمدآباد جیسے اضلاع میں اس شخص کے خلاف خودکشی پر آمادہ کرنے ، جعل سازی اور فراڈ کے کئی مقدمات درج ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ یہ شخص خود کو کرشن کا اوتار بھی بتاتا ہے اور خواتین کو پٹ رانی ۔

واضح ہو کہ گذشتہ کئی ماہ سے یہ شخص دہلی کے اس آشرم میں نہیں دیکھا گیا ہے ؛ لہذا ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو حکم دیا ہے کہ اس جعل ساز ڈھونگی بابا کو فوری طور پر گرفتار کرے ۔


Share: